17 جنوری 2013 - 20:30

طاہرالقادری حکومتی اتحادکاحصہ بن گئے، مسلم لیگ ن ۔۔ مک مکاکاریکارڈقائم کیا، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، ف و س، معاہدہ خوشایند ہے؛ تحریک انصاف۔

ابنا: مسلم لیگ ن نے حکمران اتحاد اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مذاکرات کی کامیابی کو ”مذاق رات“ اور دونوں کے درمیان مک مکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے طاہر القادری حکومتی اتحاد کا حصہ بن گئے۔ جبکہ جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) سمیت دینی مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے طاہر القادری نے مک مکاﺅ کا ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا ہے اور تحریک انصاف نے مذاکرات کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ خصوصی رپورٹر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکمران اتحاد اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مذاکرات کی کامیابی کو ”مذاق رات“ اور مسلم لیگ ن نے قرار دیا تخت یزید گرانے کے دعویدار نے کھایا پیا کچھ نہیں بس گلاس توڑا۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا طاہر القادری نے بہت بڑی بڑی باتیں کیں مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ انہوں نے پہلے سے طے شدہ امور پر دستخط کرکے مبارکبادیں دیں اور وصول کیں۔ انہوں نے کہا تخت یزید گرانے کی بڑھک لگا کر اسلام آباد پہنچنے والے طاہر القادری نے نہ صرف قوم اور ملک کا وقت برباد کیا بلکہ ان بچوں، طلباء اور ان کے عزیز و اقارب سے بھی زیادتی کی جن کی تعلیم کا نقصان کیا گیا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا فراڈ کیا گیا ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے قرار دیا کہ بغیر کسی تشدد کے مسئلہ حل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق سینیٹر شفقت محمود نے کہا تحریک انصاف مظاہرین کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جس نے عظیم عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مک مکا ختم ہو جائے گا اور شفاف الیکشن غیر جانبدار نگران حکومت قائم ہو گی۔ خصوصی نامہ نگارکے مطابق مذہبی سیاسی جماعتوں نے دھرنے کے اختتام کو ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا“ قرار دیتے ہوئے کہا طاہر القادری قوم کو بتائیں لانگ مارچ اور دھرنا دیکر کونسا تیر مارا ہے؟ مولانا فضل الرحمان نے کہا اسلام آباد سمیت سارے ملک میں ہیجان انگیز فتنہ تھا جو ٹل گیا جن شرائط پر معاملہ طے ہوا وہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا مگر مرا ہوا “ جیسا ہے۔ انہوں نے کہا قوم جاننا چاہتی ہے معاہدہ کرنے والوں میں حسینی کردار کس کا ہے اور یزیدی کردار کس کا ہے۔ انہوں نے کہا طاہر القادری نے صدر، وزیراعظم کو سابق کہا پھر انہی کو مذاکرات کے لئے پکارتے رہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا طاہر القادری دھرنے کے آغاز سے حکومت کو یزیدی ٹولہ قرار دیتے رہے لیکن آخر میں ان سے ہی معاہدہ کرلیا، جن نکات پر معاملہ طے پایا وہ معمول کی باتیں ہیں، انہوں نے کہا رائے ونڈ میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد حکومتی ٹولہ اور ڈاکٹر طاہر القادری کو متحد ہونے پر مجبورکر دیا، تاہم دھرنے کے شرکاءنے جس استقامت کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ قاری زروار بہادر نے کہا طاہر القادری کالانگ مارچ سےاسی مشہوری کے سواکچھ نہےں تھا۔ مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا امجد خان نے کہا طاہر القادری نے لانگ مارچ اور دھرنے سے ملک اور عوام کو کچھ نہیں دیا اور اپنی عزت بچانے کے لئے نام نہاد معاہدہ کرلیا ہے۔ جے یو آئی (س) کے مولانا عاصم مخدوم نے کہا سب جانتے ہیں نگران حکومت نے 90دن میں انتخابات کرانے ہیں اور نگران حکومت کے لئے سب سے مشاورت ہونی ہے طاہر القادری قوم کو بتائیں کہ لانگ مارچ اور دھرنا دیکر کونسا تیر مارا ہے۔ طاہرالقادری نے پوری قوم کے ساتھ مذاق کیا ہے۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار نے معاہدے پر ردعمل میں کہا معاہدے پر کوئی بڑا اعتراض نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 63,62 کا صحیح اطلاق ہو تو جو لوگ معاہدے میں شامل ہوئے وہ سب نااہل ہو جائیں گے۔ کیا چار دن انہیں تکلیف میں رکھنے کے بعد پاکستان کے عوام کو بجلی، گیس پانی کی سہولتیں مہیا ہو جائیں گی۔ طاہر القادری حکومتی اتحاد کا حصہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا جن لوگوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا جنہوں نے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کی وہ قادری صاحب سے کیسے معاہدے کی پابندی کریں گے۔ میں طاہرالقادری کی جگہ ہوتا تو کہتا وفاق میں کوئی خطرات نہیں اصل خطرات سندھ اور بلوچستان میں ہیں۔ہماری کوشش ہوگی نگران حکومت صرف وفاق میں نہیں تمام صوبوں میں متفقہ ہوں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ظفر علی شاہ نے وقت نیوز پر اپنے ردعمل میں کہا ہے طاہرالقادری نے کرپٹ وزیراعظم کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں اس کی پاسداری صرف موجودہ حکومت ہی کرے گی۔سینیٹر پروےز رشےد نے کہا مولانا طاہر القادری بند گلی میں پھنس چکے تھے اور موسم کی شدت اور حدت سے محفوظ شاہی کنٹینر میں وہ اکیلے پھنسے رہتے تو اور بات تھی لیکن خواتین اور کم سن بچوں کو شدید سرد موسم میں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر ان کی زندگیوں کو داﺅ پر لگانا انسانیت کی توہین کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہا مولانا قادری اپنے مشن میں مخلص ہوتے تو شاہی کنٹینر سے نکل کر مریدین کے ساتھ بارش اور سردی کی سختی کا مزہ چکھتے یا مریدوں کو بھی شاہی کنٹینر والی سہولیات فراہم کرتے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا اسلام آباد کی سٹرکو ں پر ٹھٹھرنے والے مرد، عورتیں اور کم سن بچے مولانا قادری کی عقیدت کے یرغمال تھے اور اندھی تقلید کرنے والوں کے استحصال کا یہ بدترین مظاہرہ تھا۔ طاہر القادری اخلاقیات اور ریاستی قوانین سے اتنے بھی نابلد نہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں جس ملک سے وہ تشریف لائے وہاں اس طرح کوئی بھی مرد یا عورت اپنے بچوں کو ٹھٹھرتے موسم میں احتجاج کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کرے تو حکومت فوری طور پربچوں کوتوتحویل میںلے لیتی ہے جبکہ احتجاج کرنے والے مرد یا عورت جیل کی ہوا کھاتے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا حکومت کا کنٹینر میں چھپے ایک شعبدہ باز کے سامنے سرنڈر کرنا سب کے لئے حیران کن ہے۔ معاہدہ سے ہدایت کار اور فنکار دونوں پہچانے گئے، جمہوریت کی لگام کو کسی بہروپیے کے ہاتھ میں نہیں دیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110